• Citizen Journalism Program

بلند حوصلے منزل کی پہچان ہوتے ہیں

نسیمہ کا تعلق کراچی کے علاقے گریکس ماڑی پور سے ہے۔ وہ گریکس کی با ہمؔت خواتین میں سے ایک ہیں۔ان کی دو بیٹیاں ہیں جن کی عمر بالترتیب ۵ اور ۷ سال ہے۔

نسیمہ کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کے انتقال کے بعد سسرال اور گھر والوں کی سپورٹ نہ ملنے کے باعث ان کو بہت ساری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی بیٹیوں کی عمر کے بچّے اسکول جاتے تھے مگر وہ اپنی بیٹیوں کو اسکول نہیں بھیج پاتی تھیں۔ ان کی خواہش تھی کے ان کے بچّےبھی دوسرے بچّوں کی طرح اسکول جائیں۔

پھر مجبوراً انہیں اپنے بچّوں کو پڑھانے کے لئےایک فیکٹری میں کام کرنا شروع کیا۔علاقہ مکین جوعورتوں کا فیکٹری میں کام کرنا اچھا نہیں سمجھتے تھے، ان کے بارے میں باتیں کرتے رہےکہ انہیں فیکٹری میں کام نہیں کرنا چاہئیے اور ان کے گھر والوں سے بھی کہا کہ عورت کا کمپنی میں کام کرنا اچھا نہیں ہوتا کیونکہ فیکٹریاں مردوں کے لئے بنی ہیں عورتوں کے لئے نہیں۔

مگر انہوں نے ہمّت نہیں ہاری اور وہاں کام کر کے اپنے بچّوں کو اچھّے اسکول میں داخل کرایا۔ان کے بچّے بھی دوسرے بچّوں کی طرح اسکول میں پڑھنے لگے لیکن ایک دن علاقے والوں کی باتوں سے تنگ آکر گھر والوں نے ان کا کام چھڑوا دیا۔

ایک بار پھروہ اسی موڑ پر آگئیں جہاں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انہوں نے ہمّت نہیں ہاری اور اپنے علاقے میں کچھ گھروں میں کام کرکے اپنے بچّوں کو پڑھاتی رہیں- اس کے علاوہ کڑھائی کا کام بھی کرتی ہیں۔

اب وہ خود بھی سلسلہ فاؤنڈیشن کی تعلیمِ بالغان کی کلاس میں پڑھتی ہیں تاکہ وہ خود پڑھ کر اپنے بچّوں کو اچھی تعلیم دے سکیں اور ان کی اچھّی پرورش کر سکیں۔

نسیمہ کا ماننا ہے کہ ہمارے معاشرے کی پسماندہ سوچ کو اگر تبدیل کرنا ہے تو ہمیں کبھی بھی ہِمّت نہیں ہارنی اور اپنے بچّوں کوصحیح تعلیم و تربیت فراہم کرنی ہے تاکہ لوگ عورتوں کے کام کرنے پر سوال نہیں اُٹھائیں بلکہ اُن کی مدد کریں اور اُن کو سراہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ "سوچ میں تبدیلی آرہی ہے لیکن ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے بچّوں کو یہ سکھانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ عورت اور مرد اس معاشرہ کا برابر حصّہ ہیں، ان دونوں میں کسی بھی طرح کی تفریق نہیں کرنی چاہئیے اور یہ سب باتیں سمجھنا صرف اُسی وقت ممکن ہے جب معاشرہ پڑھا لکھا ہوگا۔"

نسیمہ جیسی با ہمت خواتین کو ہمارے معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہئیے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو پسماندہ سوچ کو ہرانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اورعنقریب ہمارے معاشرے سے اس سوچ کا خاتمہ ہوجائےگا جس میں مرد اور عورتوں کو دو الگ الگ نظریوں سے دیکھا اور پرکھا جاتا ہے ۔


Contributor: Aneesa Abdul Ghafoor

7 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle