• Citizen Journalism Program

' تعلیم کے بغیرآنے والا کل بہت مایوس کن ہوگا '

لیاری جہاں تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان ہے، وہاں پربچّوں کا اسکول نہ جانا ایک عام سی بات ہے لیکن اسی لیاری میں کچھ لوگ اس پر کام کررہے ہیں جن میں ایک نام شازیہ اسحاق کا ہے۔ شازیہ ایک متوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں جو ایک مخلص سماجی کارکن کے طور پر لیاری میں کام کررہی ہیں۔ شازیہ نے ابتدائی تعلیم اپنےمحلّے کےگورنمنٹ گرلز اسکول بہارکالونی سے حاصل کی اور ۲۰۱۴ میں گریجویشن کیا۔


شازیہ نے لیاری میں گھومتے ہوئے ایسے بچّےجو اسکول نہیں جاتے ان کو پڑھا نے کا سوچا اور اپنا جذبہ اپنی ٹیم اراڈو پاکستان کو اپنے جذ بے سے آگاہ کیا اور انکی ٹیم نے انکے اس خیال کو نہ صرف سراہا بلکہ انکی ہر ممکن مدد بھی کی۔

ابتدائی طورپرشازیہ نے اپنے گھر میں ایک روم کو کلاس کا درجہ دیا،شروع شروع میں بہت دقت ہوئی لیکن شازیہ نے ہمت نہ ہاری اور اپنی کوشش جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھنے لگی ،ا ن کو احساس ہوا کہ یہ بچّےکھیل کود میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں تو شازیہ نے انکی پڑھائی کو کھیل میں بدل دیا، اب شازیہ کے پاس جگہ کم ہورہی تھی اور بچوں کی تعدادبڑھتی جارہی تھی، پھر شازیہ نے اپنی ٹیم سے جگہ کے متعلق بات کی اور ٹیم نے انکو ایک جگہ فراہم کی جسکا نام چائلڈ کیفے رکھا گیا۔ چائلڈ کیفے میں اب تک رجسٹرڈبچّوں کی تعداد ۳۵۰ ہے جن میں کوئی لگ بھگ ۱۸۰ سے ۲۰۰ بچے اب باقائدہ اسکول جاتے ہیں اور باقی بچّےچائلڈ کیفے میں غیر رسمی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ شازیہ بچّوں کو نہ صرف پڑھاتی ہیں بلکہ مہندی بھی بہت اچّھی سکھاتی ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔


شازیہ کا کہنا ہے کہ اگر ہم ان بچّوں کو تعلیم نہیں دینگے تو ہمارا آنے والا کل بہت مایوس کن ہوگا۔ والدین اپنےبچّوں کا خیال رکھیں، ان کو تعلیم اور مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں می مصروف رکھیں کیونکہ ’’ہمارا آج ہمارا آنے والا کل ہے‘‘ اور کل کو روشن اور تابناک بنانے کے لئے ہمیں اپنے آج کو بہتر بنانا ہوگا جو صرف ایک تعلیم یافتہ معاشرہ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔



Contributor: Salman Khatri

0 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle