• Citizen Journalism Program

غموار بلوچ کی جدوجہد

اگر ہم دنیا کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ بات ہم پر آشکار ہوتی ہے کہ اس دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اس مفاد پرستانہ دنیا میں اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر اجتماعی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا اور اب بھی کام کررہے ہیں ۔آج میں ایسے خوش مزاج انسان کا تذکرہ کررہا ہوں جس نے اپنے معاشرے کی پسماندگی کو دیکھ کر اپنی زندگی کا ایک ایسا فیصلہ کیا جو بہت ہی کم لوگ کرتے ہیں۔ اس نے ایک ایسے معاشرے میں جنم لیا جہاں لڑکیاں گھر کی زینت سمجھی جاتی ہیں لیکن اس با ہمت اور بھر پور حوصلہ مند لڑکی نے ان پسماندہ اقدار کو ٹھکرا کر اپنے بھائیوں کےساتھ ٹکری ایجوکیشن سینٹر کی بنیاد رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ ٹکری ایجوکیشن سینٹر کے قیام کا مقصد ٹکری کے ان نوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنانا تھا جو اپنے معاشی مسائل کی وجہ سے تعلیم کو خیر باد کہہ چکے تھے , لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ٹکری ایجوکیشن سینٹر ایک ایسا ادارہ بن گیا جہاں ۳۰۰ بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہیں۔ اگر ہم پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے ماڑی پورکا ذکر کریں تو تعلیمی حوالے سے ماڑی پورایک پسماندہ ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور اگر ہم ٹکری ولیج کا ذکر کریں تو یہ علاقہ ماڑی پور میں شامل ہے جو اس ترقی یافتہ دور میں پسماندگی کا ایک منظر پیش کرتا ہے جہاں ضروریات زندگی کی ہر چیز نایاب ہے۔ یہاں کے لوگوں کا پیشہ ماہی گیری ہے،غربت کی وجہ سے یہاں کے باشندے بچوں کو اعلی تعلیمی اداروں میں داخل نہیں کراسکتے اسی وجہ سے ان لوگوں کا انحصار ٹکری ایجوکیشن سینٹر پر ہے ٹکری ایجوکیشن کے قیام کا ایک مقصد تھا اور اسی مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کرنے والوں میں ایک لڑکی بھی شامل ہے جس کا نام غموار بلوچ ہے۔ غموار بلوچ جس نے اپنے معاشرتی پسماندہ اقدار کو توڑ کر ایک نئئ روایت کو جنم دیا اور وہ روایت یہ ہے کہ لڑکیوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے اور وہ اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے تعلیم حاصل کریں۔

غموار نے اپنے اس حق کا استعمال کرتے ہوئے میٹرک کے بعد رونق اسلامیہ گرلز کالج سے انٹر کیا۔انٹر کے بعد کراچی یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں داخلہ لیا۔ غموار کے اس اعلیٰ تعلیمی ادارے میں جانے کا مقصد علم کا حصول اور اس حاصل ہونے والے علم کو اپنے فرسودہ معاشرے میں رائج کرنا تھا تاکہ وہاں کی لڑکیاں غموار کو دیکھ کر اپنی تعلیم کو خیر باد کہنے کے بجائے مزید بڑھائیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ہم لڑکیوں کو اپنی صلاحيتوں کے اظہار کا موقع دیا جائے تو وہ آگے بڑھ سکتی ہیں۔

ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں قدیم روایات کی وجہ سے لڑکیوں کے تعلیم پر پابندی کو صحیح اور انکے تعلیمی عمل جاری رکھنے کو عیب سمجھا جاتا ہے۔لیکن غموار نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا جو اس قدیم روایات کو تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے اور غموار اپنی اس جدوجہد میں کافی کامیاب بھی ہوئی ہے غموار کے تعلیم حاصل کرنے اور اپنی تعلیم کو علاقے کی لڑکیوں کو منتقل کرنے کے عمل نےدیگر لڑکیوں کے لیےعلم حاصل کرنے کی راہ ہموار کردی ہے .غموار نے اپنے معاشرے کی لڑکیوں کو یہ تعلیم دی کہ تعلیم پر صرف لڑکوں کا حق نہیں بلکہ اس پر لڑکیوں کا بھی حق ہے اور انسان ہونے کی حیثیت سے ہم وہ سب کچھ کرسکتے ہیں جو ایک لڑکا کرسکتا ہے اس لئے ہم علم کے میدان میں نمایاں کارنامہ انجام دیکر اپنے معاشرے میں روشنی کی کرنوں کو جنم دیں۔


غموار کو بچپن سے ہی کتابوں کے مطالعے کا شوق تھا اور وہ اپنے جماعت کی صفِ اوّل کی طالبہ تھی،اسی تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے ۲۰۱۳ میں میٹرک کیا اور میٹرک کرنے کے بعد اگست ۲۰۱۳ میں اپنے بھائیوں کے ہمراہ ٹکری ایجوکیشن سینٹر کی بنیاد رکھی اور وہیں سے انٹر کی تیاری کی اور اچھے نمبروں سے انٹر پاس کرلیا اور یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ یونیورسٹی جانے کے بعد اسکی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوا وہ صبح سات بجے یونیورسٹی کے لئے نکلتی ہے اور چار بجے اپنے سینٹر میں آکر بچوں کو پڑھاتی ہے اور رات سات بجے اپنے گھر واپس چلی جاتی ہے۔غموار اپنے سینٹر میں مخلض ٹیچر ہے اور سینٹر میں مخلصانہ طور پر پڑھاتی ہے اور اسی ایمان داری اور مخلصی اور اسکی قابلیت کے بطور اسے حال ہی میں ٹکری ایجوکیشن سینٹر کا صدر منتخب کرلیا گیا جو ایک اعزاز کی بات ہے کہ ایک پسماندہ معاشرے کی لڑکی جہاں لڑکیوں کے تعلیم پر پابندی ہے وہ وہاں ایک تعلیمی ادارے کی سربراہ بن گئی ہیں۔غموار کی صلاحیتوں کا اعتراف اسکے شاگرد اس طرح کرتے ہیں کہ غموار سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور غموار نے ہی ہماری سوچ کو تبدیل کیا اور ماڑی پور اور دوسرے علاقوں میں لڑکیوں کے لئے ایک نئی سوچ کی بنیاد رکھی غموار کی بدولت ہم کہہ سکتے ہیں کہ

’’ٹکری میں لڑکیوں کی سوچ تبدیل ہوچکی ہے، جب ٹکری ایجوکیشن سینٹر کی بنیاد رکھی گئی تو اس وقت غموار سینٹر کی واحد لڑکی تھی لیکن اب اس سینٹر میں نہ صرف لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں بلکہ اس سینٹر میں بچوں کو پڑھاتی بھی ہیں اور آج سینٹر میں ۱۶ لڑکیاں پڑھاتی ہیں۔ پہلے لوگوں کو اپنی لڑکیوں کو پڑھانے کی اجازت بمشکل ملتی تھی مگر غموار کی وجہ سے چند لوگوں کی سوچ تبدیل ہوئی ہیں غموار نے لڑکیوں کے تعليم کے لئے جتنے اقدامات کئے ہیں اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے‘‘۔

Contributor: Zubair Baloch

0 views

Recent Posts

See All

بلند حوصلے منزل کی پہچان ہوتے ہیں

نسیمہ کا تعلق کراچی کے علاقے گریکس ماڑی پور سے ہے۔ وہ گریکس کی با ہمؔت خواتین میں سے ایک ہیں۔ان کی دو بیٹیاں ہیں جن کی عمر بالترتیب ۵ اور ۷ سال ہے۔ نسیمہ کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کے انتقال کے بعد سسر

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle