• Citizen Journalism Program

لیاری، باجی پروین ناز اور اُنکی جدوجہد

پروین ناز جو کہ پورے لیاری اور اپنے حلقہ احباب میں ’’باجی‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں، انہوں نے اپنا انٹرمیڈیٹ سائنس میں کرنے کے بعد فیڈرل اردو یونیورسٹی میں آرٹس پڑھا۔ اسکے بعد انھوں نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔ اب وہ پولیٹیکل سائنس میں ایم فل بھی کررہی ہیں۔

باجی نے اپنا بچپن علی محمد محلّہ کلری میں ہی گزارا۔ بچپن میں قرآن اور علمِ دین بھی سیکھا۔ ان کو شروع سے ہی مطالعہ کا شوق تھا اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وقت ہی انھوں نے مارکسزم،کمیونسم اور دنیا کے دیگر نظریات کا مطالعہ کیا اور یہ سمجھا کہ کس طرح طبقاتی نظام اور سرمایہ دارانہ نظام نے انسان پر قابض ہو کر عام انسان کا استعمال کیا ہے ۔ اپنے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا نتیجہ آنے سے پہلے ہی انہوں نے سوشل ورک شروع کردیا اور اپنے ایک دوست کے ہمراہ لیاری کے اسکولوں کا وزٹ کیا اور یہ جانا کہ لیاری تو خود نظریات کا گڑھ ہے۔ شاہ بیگ لین اسٹریٹ اسکول کو اپنے ذمے لیا اور وہاں طلباء و طالبات کو پڑھانا شروع کردیا۔

پھر باجی نے اپنا رُخ بلوچستان کی طرف کیا ۔اوتھل،بیلہ، آواران، جائو اور اسکے بعد پاکستان کے سب سے بڑے پارک یعنی ہنگول نیشنل پارک کے پہاڑوں میں ۶ ماہ سوشل موبیلائزر کی حیثیت سے کام کیا۔ وہاں کے لوگوں کو سمجھا اورانکی ثقافت کو جانا۔ مکران اور ساحلی بلوچستان میں وقت گزارنے کے بعد مشرقی بلوچستان ، نوشکی، کھاران،اور کوئٹہ گئیں۔ جب بلوچستان میں سیلاب نے لوگوں کو بے گھر کردیا تو باجی نے لیاری میں ایک ریلی نکالی اور صرف اور صرف ڈھائی گھنٹے میں ایک لاکھ پچیس ہزار روپے امداد جمع کر کے سیلاب زدگان کی مدد کی۔

اسکے بعد انھوں نے سندھ کا رُخ کیا۔ اور وہاں کے ماحول کو سمجھنے کی کوشش کی۔ پھر پنجاب اور خیبر پختونخواہ کا بھی سفر کیا۔

جب باجی نے غور کیا کہ بلوچستان کے لوگوں میں مطالعہ کا شوق ختم ہو چکا ہے تو انھوں نے ایک تحریک شروع کی جس کا نام تھا "آؤ کتابیں پڑھیں" ۔ اور انھوں نے بلوچستان کے ہر علاقے میں جاکر ۵۰ فیصد کے مول سے لوگوں کو کتابیں فراہم کی۔

باجی نے کچھ لوگوں سے مل کر کوئٹہ لٹریچر فیسٹیول کرنے کا ارادہ کیا مگر جب ۲۰۱۶ میں حکومت سے مدد مانگی گئی تو انکی طرف سے کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں ہوئی۔

سال ۲۰۱۷ میں جب بیچ لگژری ہوٹل میں سندھ لٹریچر فیسٹیول کیا گیا تو پروین ناز نے سوچا کہ شاید اس میں لیاری کا ذکر ضرور آئے گا کیونکہ سندھ کی تاریخ میں لیاری کا اہم کردار ہے مگر ایسا نہیں ہوپایا کیونکہ شاید سندھ خود اپنے آپ میں وسیع ثقافتوں کا مالک ہے۔

تو اسی دن باجی پروین ناز نے سندھ لٹریچر فیسٹیول میں موجود لیاری کے تمام ادباء، شعراء، سوشل ایکٹیوسٹس اور دیگر معزز شخصیات کو جمع کیا اور انکے سامنے اپنا یہ خیال رکھا کہ میں لیاری لٹریچر فیسٹیول کروانا چاہتی ہوں اور کر کے رہوں گی۔

بہت سے لوگوں نے سوال اٹھائے، مخالفت کی اور حوصلہ شکنی بھی کی مگر باجی نے اب خود کو ضد کی زنجیروں میں لپیٹا ہوا تھا۔

اور یوں اس دن کے دو سال بعد یعنی۲۱۔۲۲ ستمبر ۲۰۱۹ کو باجی نے لیاری کی تاریخ کی سب سے بڑی تقریب منعقد کی۔

اس دو یومیہ تقریب میں پاکستان بھر سے ۸۰۰۰ سے زائد لوگوں نے حصہ لیا۔

فیسٹیول میں بک لانچنگ سیریمنی، بین اللسانی مشاعرہ،اردو مشاعرہ، تھیٹر پرفارمنس، فلم اسکریننگ ، قوالی، رکس، موسیقی،آرٹ نمائش، لیاری کی تاریخ پر گفتگو،لیاری کی زبانوں پر گفتگو، کھیلوں کا معاشرے میں کردار اور اس کے علاؤہ اور بھی مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ کیا گیا۔

اور یہ سب اگر ممکن ہوا ہے تو صرف باجی پروین ناز اوران کے ساتھیوں کی محنت و جدوجہد کی وجہ سے۔

Contributor: Ahsan Yaar Jaan

3 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle