• Citizen Journalism Program

لیاری کے فرزند زبیرحسین کا مزدور سے مصنف بننے کا سفر

زبیرحسین کی پیدائش۳۰ اپریل ۱۹۸۰ کو کراچی کے علاقے لیاری میں ہوئی، ابتدائی تعلیم مقامی اسکول نیشنل ٹائنی ٹاٹس سے حاصل کی، ان کے والد غلام حسین پیشے سےکارپینٹر ہیں۔ چونکہ زبیرحسین کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، اسلئے بچپن سے ہی گھریلو اخراجات کے لئے انہیں اپنے والد کا ہاتھ بٹانا پڑا، زبیرموسم گرما کی تعطیلات میں اپنے والد کے ساتھ ہنر سیکھنے کے لئے کام میں مشغول رہتے۔


زبیرحسین کوتعلیم حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا، شوق کا یہ عالم تھا کہ محنت مزدوری کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ اسی شوق کے باعث اسکول میں ہمیشہ نمبر1پوزیشن پر رہے، میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اچھے کالج کےمتلاشی تھے، میرٹ کی بنیاد پر ان کا ایڈمیشن ڈی جے سائنس کالج میں ہوا مگر معلومات کے فقدان کی وجہ سے ایس ایم سائنس کالج کا انتخاب کیا۔ یہ وه دور تھا جب ان کے والد کی طویل علالت کے باعث انہیں گھریلو ذمہ داریوں کی دوڑ دھوپ سنبھالنی پڑی، زبیرحسین نے گھریلو اور تعلیمی اخراجات پورا کرنے کے لئے سڑکوں پر آلو کے چپس تک فروخت کئے۔


حالات چاہے جتنے بھی کشیده رہے ان کےحوصلے پست نہ ہوئے۔ جب انٹرمیڈیٹ کامیابی سے ہمکنار ہوا تو سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ ٹمبر مارکیٹ میں ایم عمر اینڈ سنز میں ملازمت اختیار کر لی، جہاں ملازمت کے ساتھ گریجویشن کی تیاری بھی کرتے رہے۔ جامعہ کراچی سے بی کام فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا، جس کی بدولت انہیں پمپ موٹر کی کمپنی یونیورسل پمپس میں بطور اکاؤنٹنٹ ملازمت کرنے کا موقع ملا، جہاں اپنی محنت اورصلاحیتوں کو بروئےکار لا کر اچھے عہدے پر فائز رہے۔ پھر انہوں نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا اور جامعہ کراچی سے اکنامکس کے شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔


ایم بی اےکے دوران جس ریسرچ پروجیکٹ پر کام کیا اسےجرمنی کے ایک پبلیشنگ ہاؤس نے بطورکتاب شائع کرنے کے لئے منتخب کیا اور یوں مزدور سے مصنف کی منزل تک پہنچے۔


زبیر حسین کو اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی میں ایک بہت بڑی دشواری کا سامنا رہا،وه یہ کہ لوگ لیاری کے لوگوں کو حقارت کی نگاه سے دیکھتے تھے، ہر میدان میں لیاری کے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی۔ایسا ہی کچھ ان کےساتھ بھی ہوا مگر انہوں نے ہمیشہ لیاری کا نام روشن کیا اور لیاری کو کیچڑ سمجھنے والوں کو یہ ثابت کرکے بتایا کے کنول کا پھول کیچڑ میں ہی کھلتا ہے۔ لوگوں کی حوصلہ شکنی نے ان کےدل میں لیاری کے لئے ان مِٹ محبت پیدا کردی اور یوں انہوں نے لیاری کی فلاح کےلئے کوششیں شروع کردیں۔ زبیرحسین نے بطور سماجی کارکن کے خدمات انجام دینےکے لئےیوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان سے وابستگی اختیار کرلی،اوراس غرض سےبرٹش کاؤنسل اوریوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان کےبا شعور شہری پروگرام کا حصّہ بنے، جہاں انہوں نے معاشرے کو بہتر بنانے کےطور طریقے سیکھے۔


خیال دوستوں کے ہمراه ایک فلاحی ادارے کا آغاز کیا اور یوں لیاری کے بہتر مستقبل کے لئے کوشاں رہے ۔



Contributor: Muhammad Huzaifa

0 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle