• Citizen Journalism Program

مریم؛ ہمت و حوصلہ کی عظیم مثال

لیاری میں یوں تو بے شمار ہُنر مند اور ہونہار نوجوان موجود ہیں جو اپنے اپنے شعبوں میں اپنے مثبت کام اور سوچ کے زریعے دوسروں کی زندگیوں میں تبدیلی لارہے ہیں اور اپنی ایک پہچان بنا رہے ہیں۔ لیکن میں آپ لوگوں کو جس شخصیت سے روشناس کروانے جا رہا ہوں وہ اپنے آپ میں ہمّت اور حوصلہ کی ایک مثال ہیں۔ آئیے ملتے ہیں لیاری کی پُر اعتماد اور ہونہار نوجوان لڑکی مریم سے۔


مریم کی پیدائش لیاری میں ہوئی اور اِس وقت اُن کی عمر ۲۱ برس ہے۔ مریم کی خاص بات یہ ہے کہ وہ پولیو کی وجہ سے اپنی ٹانگوں سے معذور ہیں لیکن جب آپ اُن سے ملیں گے، اُن کے کام کو دیکھیں گے اور اُن کی باتیں سُنیں گے تو آپ دنگ رہ جائیں گے کہ جن کو ہمارا معاشرہ خود سے الگ تھلگ سمجھتا ہے اور پہ در پہ اُن کی لاچارگی پر افسوس مناتا ہے، ایسے میں مریم اپنی ہمت، حوصلے اورمثبت کاموں کی بنا پرایک مثال قائم کر رہی ہیں۔


۲۱ سالہ مریم نے بینظیر بھّٹو شہید یونیورسٹی لیاری سے آرٹس میں بی۔اے کی ڈگری حاصل کی اور اس وقت سے پورے جی جان سے سماجی کاموں میں مصروف ہیں۔ ۹ ماہ کی عمر میں جب اُنہیں پولیو ہوا تو ہر والدین کی طرح شروعات میں مریم کے والدین کو بھی یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ نہ جانے کس طرح ہماری بیٹی اپنی زندگی بسر کرے گی۔ اُن کے ذہن میں طرح طرح کے سوالات نے جنم لینا شروع کردیا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ لوگ اس کو کس نظر سے دیکھیں گے؟ یہ اپنی زندگی میں کچھ کر سکے گی یا نہیں؟ لیکن جو ایک کام مریم کے والدین نے کیا وہ یہ تھا کہ اُنہوں نے کبھی بھی مریم کے حوصلے پست نہ ہونے دئیے اور بچپن سے لیکر اب تک، زندگی کے ہر مرحلے میں اُن کے ساتھ کھڑے رہے اور آج بھی کھڑے ہیں۔

مریم نے جب ارد گرد کے ماحول کو دیکھا تو اپنی اس کمزوری کو اپنی مجبوری نہیں بلکہ اپنی طاقت بنایا اور پھرگھر والوں کی مکمل مدد سے پہلے اسکول، پھر کالج اور پھر یونیورسٹی اچھے نمبروں سے پاس کی۔


مریم کا کہنا ہے کہ مجھے بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے کا بے انتہا شوق تھا، کیونکہ میں باہر جاکر عام بچوں کی طرح کھیل کود نہیں سکتی تھی اور میرا شمار خاص بچوں میں ہوتا تھا، اس لئے میں نے اپنا شوق بھی خاص رکھا اور وہ شوق تھا لکھنے اور پڑھنے کا جو آگے چل کر پڑھنے، لکھنے کے ساتھ ساتھ پڑھانے کے شوق میں بھی تبدیل ہوگیا۔


گو کہ خود مریم کا تعلق ایک غریب و متوسط گھرانے سے ہے لیکن وہ پچھلے ۴ برسوں سے لیاری کے بچّوں کو مفت تعلیم فراہم کر رہی ہیں۔ پڑھانے سے متعلق مریم کا ماننا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو صرف اسکول میں پڑھائی گئی درسی کتابوں تک نہیں روکنا چاہئیے بلکہ اُن کے اذہان کو کھولنے کے لئے دنیا میں ہونے والی نئی نئی ایسجادات اور ٹیکنالوجی کے علم سے بھی روشناس کرانا چاہئیے اور یہ ہی درس وہ اُن بچّوں کو دے رہی ہیں جو مریم سے پڑھنے آتے ہیں۔

مریم کا خواب ہے کہ وہ آگے جاکر انسانی حقوق کے لئے کام کریں، تاکہ وہ ان لوگوں کے لئے بھی آواز بلند کرسکیں جن کی کوئی آواز نہیں سنتا ۔


لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں جب مریم سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں، وہاں اگر حقیقی مثبت تبدیلی دیکھنی ہے تو سب سے پہلے گھروں میں رہنے والی ماؤں کی تربیت کرنی ہوگی اور اُن کو حوصلہ دینا ہوگا کہ چاہے حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں وہ اپنی بیٹیوں کو ضرور پڑھائیں کیونکہ معاشرہ خاندانوں کا مجموعہ ہے اور خاندان کی تربیت میں ایک بڑا حصّہ ماں کا ہوتا ہے۔ مریم جیسی سوچ کے لوگ جو اپنی بات کہنے میں بھی بے باک اور نڈر ہوں بہت کم ملتے ہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ ایک دن مریم اپنے تمام خواب ضرور پورے کریں گی اور لیاری سمیت ملک بھر کے لئے ایک مثال بن کر سامنے آئیں گی۔


Contributor: Khuda Bux

12 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle