• Citizen Journalism Program

پولیو ورکرز اور دورانِ مُہِم پیش آنے والے مسائل

پولیو ایک لا علاج مرض ہے جو دنیا کے بہت کم ممالک میں باقی رہ گیا ہے، اُن ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پولیو مہم کے دوران کس طرح کے مسائل درپیش آتے ہیں اور پولیو ٹیم کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے لئےہم نے پولیو ورکرز کی تلاش شروع کی جو ہمیں اس لا علاج مرض اور اس سے بچاؤکے لئے چلائی جانی والی مہم کے بارے میں آگاہی دے سکیں۔

اسی تلاش میں ہماری ملاقات لیاری کے ایک رہائشی اور پولیو ورکر محمد انوار حسین سے ہوئی۔ ہماری جو گفتگو انور حسین سے ہوئی، وہ ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔


آج ہم اپنی گفتگو کا آغاز اُن مسائل کو اُجاگر کرنے سے کرتے ہیں جو پولیو ورکرز کو، دورانِ پولیو مہم پیش آتے ہیں۔ جب وہ اپنی مہم پر نکلتے ہیں اور لوگوں کے گھروں پر پولیو ویکسین کے لئے دستک دیتے ہیں تو اُنہیں کئی طرح کی باتوں، لوگوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

محمد انوار حسین کا کہنا تھا کہ ’’سب سے پہلے تو ہمارا سامنا ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو مذہبی رجحان رکھتے ہیں۔ وہ ہم سے کہتے ہیں کہ چونکہ چند مذہبی رہنماؤں نے سختی سے منع کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلائیں، لہذٰا آپ پہلے اُن کے پاس جائیں اور فتوٰی لے کرآئیں تو ہم اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا دیں گے۔ دوسرے ایسے لوگ ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ غیر ملکیوں کی چال ہے اور وہ اس طرح کی ویکسینز کے زریعے ہماری نسل کشی کر رہے ہیں۔ تیسرے ایسے بد تہذیب اور بد اخلاق لوگ ہوتے ہیں کہ جب ہماری پولیو ورکرز اُن کے دروازوں پر جاتی ہیں تو وہ اُن سے اوّل درجہ کی بدتمیزی کرتے ہیں اور دروازہ بند کردیتے ہیں‘‘۔


اس کے علاوہ محمد انوار حسین کا کہنا تھا کہ ہمیں اعلیٰ سرکاری حکام نے ہماری حفاظت کے لئےپولیس اور رینجرز فراہم کی ہے کیونکہ ماضی میں کئی بار شر پسند اور دہشتگرد عناصر نے پولیو ورکرز پر حملے کئے اور ہمارے کئی ساتھیوں کو دورانِ پولیو مہم شہید بھی کیا گیا۔ لہذٰا جب بھی ہم رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ جاتے ہیں تو کچھ لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ ہم اُن کو ڈرا اور دھمکا کے زبردستی پولیو کے قطرے پلاتے ہیں، جب کہ ایسا بلکل نہیں ہے۔ یہ سیکیورٹی اہلکار آپ کے لئے نہیں بلکہ ہماری حفاظت کے لئے ہمارے ساتھ آتے ہیں کیونکہ ہم پراَن گنت حملے ہو چکے ہیں لیکن لوگ اس بات کا بھی غلط مطلب نکالتے ہیں۔


اس کے علاوہ محمد انوار حسین کا کہنا تھا کہ:

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ ہماری نسل کشی کر رہے ہیں، آپ کے پاس تو کوئی ایسی لیبارٹری ہی موجود نہیں ہے جہاں یہ ویکسین چیک کی جاسکے، ایسے تمام حضرات کومیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں لیبارٹری موجود ہے اور وہ لیبارٹری اسلام آباد میں ہے، اگر آپ کوویکسین کے ٹھیک نہ ہونے کا ابہام ہے تو آپ وہاں جا کر اسے چیک کروا سکتے ہیں اور ویکسین کے صحیح ہونے کی تصدیق کرسکتے ہیں۔

اس طرح کی تمام باتیں جو یہ لوگ کرتے ہیں، یہ صرف جھوٹ پر مبنی ہیں اور ملک دشمن عناصر کی پھیلائی ہوئی ہیں، کیونکہ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان دنیا بھر میں پولیو کے حوالے سے بدنام رہے، ملک سے پولیو کا خاتمہ نہ ہواور پاکستانیوں کی پولیو کے حوالے سے ہر بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہو۔


اسی خدشہ کے پیشِ نظرمحمد انوار حسین نے تمام لوگوں سے التجا کی کہ:

میں اپنے تمام پاکستانی بھائیوں سے التماس کرونگا کہ آپ اپنے ۱ دن سے لیکر ۵ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے ۲ قطرے ہر مُہِم میں لازمی پلوائیں، اس میں کوئی ایسے مضر اثرات نہیں ہیں جوآپ کے بچوں کو نقصان پہنچائیں۔

اپنی اولاد سے محبت کریں۔ یہ میرا اور پورے پاکستان کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اور اپنے پڑوس کے بچّوں کو پولیو کے ۲ قطرے لازمی پلوائیں۔


آخر میں ہمارا شکریہ ادا کرتے ہوئے محمد انوار حسین نے کہا کہ اس اُمید کے ساتھ میں آپ کا اور تمام پڑھنے والوں کا شکریہ ادا کرونگا کہ آپ میری بات کو سمجھیں گے اور کوشش کریں گے کہ یہ موذی مرض ہمارے ملک سے جلد از جلد ختم ہوسکے۔


Contributor: Moize Ali

1 view

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle