• Citizen Journalism Program

کراچی کی کباڑہ مارکیٹ اور اس کی اہمیت

کراچی اور اس کے ملحقہ علاقے پورے ملک بلکہ دنیا میں پائی جانے والی ضروریاتِ زندگی کی اشیا کی خرید و فروخت کے حوالے سے اپنے آپ میں یکتا اور کافی مشہور ہیں۔ سوئی بنانے والی مشین سے لیکر بر آمدادت اور در آمدات کی تمام اشیا آپ کو کراچی کی کسی نہ کسی علاقے میں با آسانی میّسر ہوجائیں گی۔ کھانے پینے کے سامان سے لیکر گھروں کی تزئین و آرائش تک، کھلونوں سے لیکر بڑی گاڑیوں کے انجن و دیگر پارٹس تک ہر چیز کی بڑی اورمشہور مارکیٹس جہاں آپ سستے داموں میں اپنی مطلوبہ چیز حاصل کرسکتے ہیں، کراچی کے طول و عرض میں موجود ہیں۔

اسی طرح کراچی کے علاقے لیاری اور ماڑی پور سے متصل علاقہ شیر شاہ میں ایشیا کی سب سے بڑی کباڑہ مارکیٹ بھی موجود ہے جو آج سے ۶۰ دہائیوں پہلے جنرل ایوب خان کے دور میں بنی تھی۔

اس بازار میں ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز انتہائی کم داموں میں باآسانی دستیاب ہیں۔

لوگوں کا ماننا ہے کہ یہاں ہر وہ چیز ملتی ہے جو انسانی ضرورت کی ہے۔

۱۷۰۰ دکانوں پر مشتمل یہ بازار ایک طویل رقبہ پر قائم ہے جہاں پاکستان کے ہر کونے سے لوگ اپنی ضرورت کی چیزیں سستے داموں میں خریدنے آتے ہیں۔

دکان داروں اور خریداروں سے بات کرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ یہاں بارگیننگ یعنی اشیاؤں کی قیمتوں میں رعایت کا کوئی قانون نہیں، کیونکہ تمام اشیا دیگر بازاروں کے مقابلے میں انتہائی سستے اور مناسب داموں میں میسر آجاتی ہیں۔

بازار یونین کے ایک ممبر سے بات کرنے پر ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک اندازے کے مطابق کباڑی مارکیٹ روزانہ اربوں روپیوں کا کاروبار کرکے دیتی ہے۔

ماضی میں جب لسانی بنیادوں پر لوگوں میں نفرتیں پھیلائی جارہی تھیں تب اِس بازار کے دکانداروں اور خریداروں دونوں پر کافی منفی اثر پڑ رہا تھا، لیکن یونین کے چند با شعور ممبران نے ملکر اختلافات کو مٹانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ سلیم حسین جو کئی زمانے سے یہاں اپنا کاروبار کر رہے ہیں اور یونین کے اہم رکن بھی ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ اُن حالات کو تبدیل کرنے اور لوگوں کے درمیان شر پسند عناصروں کی جانب سے پھیلائی ہوئی منفی سوچ کو ختم کرنے کے لئے بازار کے سلجھے ہوئے لوگوں نے تمام دکانداروں کو اکھّٹا کیا اور ان کے درمیان اختلافات کو نہ صرف مٹایا بلکہ انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے اسپورٹس اور دیگرپروگرامز کا بھی انعقاد کیا اوراب خدا کا فضل ہے کہ ہر دکاندار ایک دوسرے کا بنا کسی لسانی تفریق کے خیال رکھتا ہے اور ضرورت کے وقت مدد بھی کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس بازار کی رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں اورمارکیٹ میں آنے والا ہر شخص اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتا ہے اور بھائی چارگی کی فِضا کو محسوس کرسکتا ہے۔

اس طرز پر مبنی مزید بازاروں کا بننا ، کم پیسہ کمانے والے افراد اور خاندانوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں جو اتنے کم داموں میں خریدوفروخت کے باوجود ملکی معیشت میں روزانہ کی بنیاد پراتنا بڑا حصّہ ڈال رہے ہیں۔

Contributor: Jamal Zafar

8 views

Recent Posts

See All

بلند حوصلے منزل کی پہچان ہوتے ہیں

نسیمہ کا تعلق کراچی کے علاقے گریکس ماڑی پور سے ہے۔ وہ گریکس کی با ہمؔت خواتین میں سے ایک ہیں۔ان کی دو بیٹیاں ہیں جن کی عمر بالترتیب ۵ اور ۷ سال ہے۔ نسیمہ کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کے انتقال کے بعد سسر

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle