• Citizen Journalism Program

ہمارے معاشرے کی حقیقی پہچان

خانہ بدوش کہیں یا معاشرے کے وہ افراد جن کے سروں پر چھت اور دیگر ضروریاتِ زندگی مہیا نہیں ہوتیں اور وہ در بدر ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں روزی کی تلاش میں سفر کر رہے ہوتے ہیں۔

شہرِ کراچی کی اکثر فٹ پاتھوں پہ آپ کو ایسے کئی خاندان نظر آئیں گے جو اپنے تمام سروسامان اور گھر والوں کے ساتھ ان جگہوں پر زندگی گزارتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کا تعلق دیہی علاقوں سے ہوتا ہے جن میں مزدوروں، کھیتوں میں کام کرنے والوں، مویشی پالنے والے چرواہوں اور روزمرہ کی بنیاد پر کام کرنے والوں کی اکثریت پائی جاتی ہے۔

گزشتہ دنوں ہم نے بھی ایک ایسے ہی خاندان سے بات کی جو کافی عرصہ سے اپنی زندگی لیاری کے نزدیکی علاقہ میں ایک سڑک کنارے فٹ پاتھ پر بسر کر رہے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ سال پہلے ان کے گاؤں میں سیلاب آ نے کی وجہ سے انکے مکان اورسارےمو یشی تباہ ہو گئے۔جس کی وجہ سے یہ لوگ اپنے گاؤں سے ہجرت کر کے شہر میں رہائش پزیر ہو گئے۔ لیکن شہر آ نے کے بعد ان کے پاس نہ رہنے کے لئے مکان تھا، نہ کھا نے کے لئے روٹی اور نہ ہی دیگراشیاءضرورتِ زندگی انہیں میسر تھیں، جس کے باعث انہیں بہت مشکلات کا سامنا ہوا۔اس لئے مجبوراً ایسے حالات میں ان کو فٹ پاتھ پر اپنی زندگی بسر کرنی پڑ رہی ہے۔

لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اس مصرعہ پر صادق اترتے ہیں کہ

’’ہیں لوگ و ہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے‘‘

کچھ ہی دنوں میں ان خانہ بدوش خاندان والوں سے علاقہ مکینوں نے رابطہ کیا اور ان کے مسائل جاننے کی کوشش کی اور اس کے بعد ان کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے لئے روزگار کے مواقع بنانا شروع کئے۔ خانہ بدوشوں کے ان خاندانوں کی خواتین کو آس پڑوس کے علاقوں میں گھروں میں کام کرنے کے مواقع دئے گئے، جبکہ مرد حضرات کو روز مرہ کی بنیاد پر صدر اور دیگر مارکیٹوں اور ہوٹلوں میں کام دلوایا گیا۔

یہ خاندان ابھی بھی انہی فٹ پاٹھ پر اپنی زندگیاں بسر کر رہے ہیں اور جب کبھی کام نہیں ہوتا یا کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو علاقہ کے لوگ ان کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔ کوئی ان کے لئے پانی اور کھانے کا انتظام کردیتا ہے تو کوئی کپڑے لتھے کا۔ بیرون شہر سے آئے ہوئے مجبوری اور کسمپرسی کے حالات میں ان خاندانون کو ان گنت مسائل کا سامنا ضرور ہے لیکن لوگوں میں ان کے لئے اپنائیت، ان کے مسائل کے حل اور ان کی مدد کے لئے ہر وقت موجود رہنا، ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو اپنا سمجھنا ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جہاں ہر فرد بلا کسی امیر و غریب کے فرق کےصرف اور صرف ایک دوسرے کی مدد کے لئے کوشاں ہے اور یہ ہی ہمارے معاشرے کی حقیقی اور اخلاقی پہچان ہے۔



Contributors: Aaliya Wahid & Sadaf Suleman

4 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle