• Asra Khan

مصیبت میں گھرا ابراہیم حیدری کا ایک گھرانہ؛ جو اب اچھی زندگی گزار رہا ہے


روشنیوں کے شہر کراچی سے منسلک ماہی گیروں کی ایک بستی ابرہیم حیدری کے 80فیصد لوگ ماہی گیری سے وابستہ ہیں۔ ایک خاندان کی کہانی جس میں دو بوڑھے ماں باپ دو میاں بیوی میٹھی فقیرہ اور دو بچے فقیرہ سمندری سیپیوں کا کام کرتے ہیں وہ ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہے تھےکہ اچانک ان کی زندگی میں ایک بہت برا خطر ناک حادثہ کی باعث اس گھر پر مصیبتوں کے انبار لگ جاتے ہیں۔ سانحہ ہوتا ہے۔ موٹر سائیکل کے لڑکی دونوں ٹانگوں سے معذور ہوجاتی ہے جبکہ لڑکے کے منہ اور کان بری طرح زخمی ہوجاتے ہیں جبکہ دونوں ھاتھوں کے بازو کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور ان کے بوڑھے ماں باپ نے ان کا علاج کروانے کیلیے اپنے گھر کی ساری اشیا بیچ کر بھی 50 سے 60 ہزار جمع کر لیے لیکن ان غریبوں نے ہسپتال کا کبھی منہ بھی نہ دیکھا تھا نہ ان کو یہ پتا تھا کے ہسپتال کا کیا نہیں دیکھا تھا ور نہ انہیں ہسپتالوں کا طریقہ کار معلوم تھا لہذٰا اس کام کے لئے بوڑھے والدیں نے اپنے رشتہ داروں اور محلہ والوں سے رابطہ کیا ہوتا اور انکا ساتھ چاہا تو انہوں نے ساتھ تو دیا پر ان پیسوں کا غلط استعمال کیا اور علاج بھی سہی سے نہیں کروایا آخر وہ پیسے ختم ہوگئے اور وہ میاں بیوی اپنی اسی ٹوٹی ہوئی حالت میں پڑے رہے۔ لڑکا نہ کچھ کھا سکتا تھا نہ پی سکتا تھا کمزوری کی وجہ سے ان کی بیماری اور درد اور بھی زیادہ بڑھتا گیا بوڑھے ماں باپ سے جب اپنے بیٹے کا درد نہ دیکھا جاتا تو وہ اپنے بیٹے کو نیند کی گولیاں کھلا کر سلا دیتے بیٹے کے کام کے علاوہ ان کا کوئی زریعہ معاش نہ تھا، علاج کے لیے اگر کسی قریبی رشتہ دار سے مدد کے لیے کہتے تو آگے سے جواب آتا کہ اپنا گھر بیچ کر اپنے بیٹے کا علاج کرواؤ ۔ ’’گھر تو دوسرا بھی بنوا لو گے اگر جوان بیٹا مر گیا تو اسےکہاں سے واپس لاؤ گے۔‘‘ چند ماہ یونہی گزر گئے اور ان دونوں میاں بیوی کے زخم اور بھی خراب ہوتے گئے اور ان بوڑھے ماہ باپ نے کہیں سے مدد نہ ملنے کی وجہ سے ان کے ٹھیک ہونے کی امید چھوڑ دی۔ پھر اچانک یہ بات ابرہیم حیدری کے چند نوجوانوں کو معلوم ہوئی اور وہ ان کی مدد کے لیے ان کے گھر پہنچےاور ان کو ہسپتال لے کر گئے تو ہسپتال کا سسٹم دیکھ کر مایوس ہو گئے کہ ایک غیر مسلم کے لیے وہاں ذکات یا فنڈ کا کوئی سسٹم نہ تھا ایک سرکاری ہسپتال میں بھی ان کے علاج پر آنے والا خرچہ 90،000 تھا ۔ اب اس فیملی کے پاس ان کے علاج کے لیے ایک روپیہ بھی نہ تھا ان تین نوجوانوں نے سوچا کہ پیسے تو ہمارے پاس بھی نہیں ہیں لیکن کسی بھی حالت میں ان کا علاج تو کروانا ہوگا پھر وہ تین نوجوان لوگوں نے ڈونیشن جمع کرنے کا پلان بنایا۔ اس کام کو سر انجام دینے کے لئے انہوں نے ڈونیشن باکس بنائے اور نامور لوگوں کے پاس لیکر اور ان سے مدد مانگی ل؛یکن کسی نے بھی مدد نہ کی۔ کسی نے کہا کہ مجھے اپنے بچوں کے اسکول کی فیس جمع کروانی ہے تو کسی نے دیگر وجوہات بیان کرکے مدد کرنے سے انکار کردیا۔ کچھ لوگوں نے تو دل کھول کر مدد کری لیکن ابھی بھی رقم نہ کافی تھی جسکے بعد ان نوجوانون نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور فیس بک، ٹوئیٹر، واٹس ایپ کے زرئعے لوگوں سے مدد کی اپیل کی، جسکے بعد دیکھتے ہی دیکھتے رقم آپریشن کے لئے درکار رقم پوری ہوگئی۔ اس طرح لوگوں کی مالی امداد اور دعاؤں کے بعد انکا آپریشن کامیاب ہوا اور اب وہ گھرانہ ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا ہے

Contributor:

Asra Khan is a participant from Ibrahim Hyderi. She works at Aga Khan Health Center. She is interested in reporting and wants to pursue journalism.


8 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle