• Mehran Ali Shah

پانی ہے ہمارا حق


جولائی 2010ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک تاریخی قرارداد منظور کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا تھا کہ پینے کا صاف پانی اور صفائی انسانی حق ہے، کیونکہ ’’زندگی کے حق کا مکمل مزہ حاصل کرنے کیلئے پانی انتہائی ضروری ہے‘‘۔ اس موقع پر جنرل اسمبلی میں موجود اقوام متحدہ کے طاقتور ممبر ممالک بڑی تعداد میں قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے کیلئے جمع ہوگئے تھے۔ اقوام متحدہ کے بلیوین سفیر پیبلوسولون نے جنرل اسمبلی میں قرارداد پیش کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کو یاد دہانی دلائی کہ انسانوں کا وجود تقریباً تین حصے پانی سے بنا ہوا ہے اور ہمارے جسم میں خون دریاؤں کی طرح بہاؤ بناکر جسم میں غذا اور توانائی منتقل کرتا ہے اور انہوں نے کہا کہ پانی زندگی ہے، لیکن پھر پیبلو سولون نے ایک المناک صورتحاک کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں صاف پانی کی قلت اور لوگوں کی اس تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں انسان اپنی زندگی گنوا رہے ہیں۔ انہوں نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ایک مطالعہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ترقی پذیر ممالک میں ہر تین سیکنڈ کے بعد ایک بچہ گندے پانی کے استعمال کی وجہ سے فوت ہو رہا ہے، پھر سولون نے خاموشی سے اجلاس میں اپنا ہاتھ مسلسل تین بار اٹھایا اور اپنی ایک انگلی آدھے سیکنڈ کیلئے اوپر اٹھائی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خاموشی چھا گئی۔ کچھ دیر کے بعد ووٹنگ شروع ہوئی اور بڑی تعداد اور جذبے کے ساتھ یہ تسلیم کیا کہ پانی اور صفائی انسانی حق ہے ۔

روشنیوں کے شہر کراچی کو جنم دینے والی اس بستی نے جہاں کراچی کو بین الاقوامی شہر بنادیا ہے، وہاں وہ خود دن بہ دن تباہی کے کنارے دھکیلی جارہی ہے۔ ابراہیم حیدری میں پانی کے بڑے بڑے واٹر سپلائی ٹینک موجود تو ہیں لیکن ان پر چند بااثر اور مفادپرست لوگوں کے قبضے قائم ہیں، جو اپنے مفادات کی خاطر 2 لاکھ کی آبادی کو پانی جیسی نعمت سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔

پانی پانی کرتےبیت گئی جوانی

اب نلوں سے کیا، آنکھوں سے بہتا پانی

ابراہیم حیدری گوٹھ 52 محلوں پر قائم ہے، جن میں سے چند محلوں میں ہفتہ وار پانی کی رسائی حاصل ہے، لیکن سیاسی رساکشی کی وجہ سے دیگر محلوں کو پانی کی رسد بند کی گئی ہے، جس کی وجہ سے عوام میں ذاتی مسئلے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہے کہ پینے کے پانی اور صفائی کے حق کی کیوں ضرورت ہے، اس لئے کہ پانی کے بغیر ہم کبھی بھی بھوک کیخلاف نہیں لڑ سکتے، جیسے ہمارے پاس اس کی سب سے بڑی مثال گذشتہ سال تھر کی قحط سالی کی ہے۔ کیونکہ تھر کے لوگ پانی کے حق کے سوا بھوک، بدحالی اور بیماریوں کیخلاف نہیں لڑسکتے۔ اسکولوں میں ٹوائیلیٹ کے نہ ہونے کے باعث طالبات اپنی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہی چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہیں، صفائی اور نکاس کی سہولت کے بغیر بیماریاں مسلسل پھیلتی ہیں، نتیجے کے طور پر بڑے پیمانے پر بچوں کی اموات میں اضافہ ہوگا اور ہماری صحت بھی خراب ہوگی۔

Contributor:

Mehran Ali Shah is a participant from Ibrahim Hyderi. He is a social activist and is interested in reporting on climate change issues.

#feature

8 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle