• Kashif Shah

ہمیں ماتھے پر بوسہ دو،کہ ہم کو تتلیوں کے، جگنوؤں کے دیس جانا ہے !


پاکستان کی آزادی کے وقت کراچی کو ملک کا دارالحکومت منتخب کیا گیا، لیکن بعد میں اسلام آباد کو پاکستان کے دارالحکومت کا درجہ دے دیا گیا۔ کراچی کا پرانا نام ’’کولاچی‘‘ ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معروف صنعتی و تجارتی مرکز ہے۔ کراچی ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کی دہائیوں سے تشدد، سیاسی اور سماجی ہنگامہ آرائی اور دہشت گردی کا شکار بنا رہا، لیکن گذشتہ کچھ سالوں سے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے اور کراچی میں ترقیاتی کام بہت تیزی سے جاری ہیں۔

کراچی کو روشنیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ اسی روشنیوں کے شہر کی کوکھ میں سب سے بڑی اور قدیم ماہی گیروں کی بستی ابراہیم حیدری بھی آباد ہے۔ ابراہیم حیدری تقریباً ۲ لاکھ کی آبادی اور ۵۲ محلوں پر مشتمل گوٹھ ہے۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہے۔ یہ ماہی گیر بستی روز اول سے آج تک بنیادی سہولیات کی قلت کا شکار رہی ہے۔ یہاں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت رہتی ہے۔ عورتیں اور بچے صبح سویرے سروں پر پانی کے برتن اٹھائے پانی کی تلاش میں دربدر نظر آتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ یہاں تعلیم اور صحت کابھی کوئی معیاری بندوبست نہیں۔

ابراہیم حیدری کے ۵۲ محلوں میں سے ایک محلہ ’’جبل پاڑہ‘‘ بھی شامل ہے۔ یہاں زیادہ تر کچھی برادری کے لوگ آباد ہیں جو ماہی گیری کر کے اپنے بچوں کا گذر بسر کرتے ہیں۔ جبکہ سمندر میں سرمایہ داروں کی طرف سے حد سے زیادہ مچھلی کے شکار اور ممنوعہ جالوں کے استعمال نے مقامی ماہی گیروں کو بُری طرح متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے مقامی ماہی گیر دو وقت کی روٹی بھی بمشکل حاصل کرسکتے ہیں اور لوگ دن بہ دن کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ غربت کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو پڑھانےکے بجائے مختلف روزگار سے لگا دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی آمدنی میں تھوڑا بہت اضافہ ہوتا ہے۔

جبل پاڑہ کے دو بہن بھائی نسرین جس کی عمر ۸ سال اور معشوق جس کی عمر ۷سال سے ہے گذشتہ چند ماہ سے اپنے والدین کی کسمپرسی کو ختم کرنے کیلئے فنگر فرائے چپس کے ٹھیلے پر مزدوری کرتے ہیں۔ مذکورہ بچوں کے والد ماہی گیری کرتے ہیں اور جبکہ ماں گھریلو کام کاج میں مصروف رہتی ہیں۔ نسرین اور معشوق کی مزدوری کا وقت سہہ پہر ۳ بجے سے رات ۹ بجے کا ہے۔ کام کے دوران یہ دونوں بہن بھائی آلو چھیلنے سے لیکر چپس بنانے اور برتن دھونے کا کام کرتے ہیں، جس کے بدلے میں انہیں۵۰۔۵۰ روپے دہاڑی ملتی ہے اور اس طرح وہ گھر کا خرچہ چلانے میں اپنے ماں باپ کی مدد کرتے ہیں۔

اس ماہی گیر بستی میں ایسے سینکڑوں بچے ہیں جو مچھلی اور جھینگے صاف کرنے والی کمپنیوں سمیت مختلف ہوٹلوں، دکانوں و دیگر کاروبار سے وابستہ ہیں۔ پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک جرم ہے۔ لیکن یہ غریب بچے اپنی اور اپنے والدین کے پیٹ کی بھوک مٹانے کیلئے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

میرے حصّے میں کتابیں، نہ کھلونے آئے

خواہشِ رزق نے چھین لیا میرا بچپن مجھ سے

غرباء اپنے بچوں کو جب اچھے اسکول اور کالج میں نہیں بھیج پاتے یا انہیں مناسب تعلیم نہیں دلواپاتے تو پھر وہ اپنے بچوں سے کام لینے لگتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں چائلڈ لیبر پر نہ صرف پابندی ہے بلکہ یورپین ممالک نے پسماندہ ممالک سے تجارت پر اس لئے بین لگا دیا ہے کہ وہاں زیادہ تر اشیاء کی تیاری میں چائلڈ لیبر استعمال ہوتی ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہئیے کہ چائلڈ لیبر پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ بچوں کیلئے ایڈ پلان اور الاؤنس مقرر کرے تاکہ کوئی بھی بچہ خوابوں سے مہروم نہ رہ سکے اور پڑھنے لکھنے والے یہ ہاتھ کبھی سخت جان اور کھردرے نہ ہوسکیں۔ میرے چمن کے ان پھولوں کے بارے میں کوئی تو سوچے

Contributor:

Kashif Shah is a participant from Ibrahim Hyderi. He is interested in photography and currently involved in many social activism projects in his area.


10 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle