• Ubaid Imam & Shaista

توتائے چوکنڈی


کراچی کے قرب و جوار میں اہم تاریخی آثار و قبریں موجود ہیں جو اپنی مخصوص بناوٹ کے باعث کئی دہائیوں سے اپنی دلکشی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ قبریں قبائلی دور کو اُس زمانے سے تعلق رکھتی ہیں جب لوگوں کا زریعہ معاش گلہ بانی ہوا کرتا تھا اور چرا گاہیں انتہائی اہمیت کے حامل تھیں۔ یہ تمام قبریں اُن جنگوں سے تعلق رکھتی ہیں جو چرا گاہوں پر دسترس حاصل کرنے یا اُن کی حفاظت کی خاطر لڑی گئیں تھیں۔ ان تمام قبرستانوں میں توتائے چوکنڈی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

توتائے چوکنڈی کلمتی قبیلے کا تاریخی قبرستان ہے۔ یہ شہرِ کراچی کہ علاقہ میمن گوٹھ میں واقع ہے جو کہ ملیر سٹی سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ توتائے چوکنڈی کو ’’بلوچ شاہی قبرستان‘‘ بھی کہتے ہیں۔ویسے تو کراچی کے گرد و نواح میں اور بھی تاریخی قبرستان موجود ہیں جن میں سازین چوکنڈی اور جامانی قابلِ ذکر ہیں۔لیکن تو تائے چوکنڈی ان تمام قبرستانوں میں سب سے قدیم ترین قبرستان ہے۔یہ قبرستان کم از کم پانچ سو سال پرانہ ہے۔ اس قبرستان کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں عورتوں کی قبروں پر سنگار اور بلوچی پشکوں، دستکاریوں کے علامات موجود ہیں اور مردوں کی قبروں پر مختلف قسم کی خوبصورت نقوش کے ساتھ ساتھ ان کی بہادری اور خاندانی حیثیت کی علامات موجود ہیں۔اس کے علاوہ ان قبروں کے سرہانوں کی اوپری حصّہ میں پگڑیوں کے نشانات موجود ہیں۔ قبروں کے کونوں سے نکلے ہوئے علامات بھی اُن لوگوں کی قبائلی حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

لیکن یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ چوکنڈی کا نام چوکنڈی کیوں رکھا گیا؟

چوکنڈی کا نام چوکنڈی اس لئے رکھا گیا کیونکہ یہ قبرستان چار کونوں پر مشتمل ہے اور سندھی زبان میں ’’چا‘‘ کے معنی چار ہیں اور ’’کنڈ‘‘ بلوچی زبان میں کونے یا ستون کو کہتے ہیں۔لہذٰا اسے چوکنڈی کےنام سے یعنی چار کونوں والا کے نام سے منسوب کیا گیا۔

غلام رسول کلمتی نےچوکندی کے قبرستانوں کا ذکر کچھ اس طرح سے کیا ہے کہ جب انہیں غروبِ آفتاب کے وقت دور سے دیکھا جائے تو یہ ایسے سپاہیوں کا تصور پیش کرتی ہیں جو قواعد (پریڈ) کے لئے کھڑے ہوں۔ یہ تفصیل بلا شبہ ان لوگوں کے فوجی کردار سے جو یہان مدفن ہیں بڑی مطابقت رکھتی ہے۔

اختر مراد ان قبروں کے متعلق کہتے ہیں کہ جب چوکنڈی قبرستان پہنچتے ہو تو دور دور تک کچھ نظر نہیں آتا۔ نیچے قبریں اور اوپر آسمان کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ان قبروں پر منقش پتھروں کو گڑیوں بھی کہتے ہیں جو بلوچی زبان کے ہیں اور جس کے معنی تراشیدہ کے ہیں۔ اس کے علاوہ جو قبریں چار دیواری میں ہیں، اس دیوار کے لئے رانک کا لفظ سننے میں آیا ہے جو کہ اصل میں بلوچی زبان کا ’’رک‘‘ ہے ، جس کے معنی حفاظت یا حفاظتی کے ہیں۔

Contributor:

Ubaid Imam and Shaista are participants from Rafah-e-Aam Society. They are active in their community working on different issues.


10 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle