• Adil Ansari

ساحلی علاقوں میں آلودگی کی صورتحال


کراچی کے ساحلی علاقوں باالخصوص ابراہیم حیدری سے ریڑھی گوٹھ تک کے علاقے کو شہر بھر سے پھینکے جانے والے کچرے کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔ اس وقت روزانہ 7 ہزار ٹن سے زائد کچرہ شہر کے 18 ٹاؤنز کی گاڑیوں میں بھر کر ابراہیم حیدری تا ریڑھی میں سمندرکے کناروں پر پھینکا جارہا ہے۔ جبکہ 450 ملین گیلن آلودہ زہریلہ مادہ شہر کے مختلف بندرگاہوں، بھینسوں کے باڑوں، تیل کے گوداموں اور صنعتی علاقوں سے ندی نالوں کے ذریعے سمندر میں خارج کیا جارہا ہے۔ بڑے پیمانے پر پھیلتی ہوئی آلودگی کے باعث پورے علاقے میں بدبو اور مختلف امراض کے جراثیم پھیل رہے ہیں۔ بن قاسم ٹاؤن کے ساحلی علاقے میں آباد 3 لاکھ سے زائد ماہی گیر تیزی سے خطرناک جلدی، پیٹ، آشوب چشم و دیگر جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی کے باعث بگڑتی ہوئی صورتحال پر پورے علاقے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، جس سے گورنمنٹ کے تمام تر ادارے پوری طرح آگاہ ہیں۔ اس وقت سرکاری ماحولیاتی ادارے، وزارتِ ماحولیات، ماحولیاتی ٹربیونل، ماحولیاتی قوانین اور شہر بھر میں صاف کرنے والے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی موجودگی کے باوجود آلودگی کیخلاف کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں اور نہ ہی کوئی ادارہ، منتخب نمائندہ اور موثر سماجی تنظیمیں اس گند گی کیخلاف اب تک کوئی مہم چلا سکی ہیں۔ آلودگی کے باعث کراچی کی 129 کلومیٹر پر پھیلے ساحلی علاقے کے 8 لاکھ سے زائد ماہی گیر بیروزگاری کا شکار ہو رہے ہیں، آلودگی کے باعث کناروں پر موجود مچھلیاں کنارے چھوڑ کر گہرے سمندر میں چلی گئی ہیں۔ جھینگے مچھلی کی نرسری تمر کے جنگلات آلودگی کے باعث خراب ہو رہے ہیں اور مچھلی مر رہی ہے۔ بڑی تعداد میں کشتیاں کناروں پر کھڑی کر دی گئی ہیں، کیونکہ مسلسل نقصان کے باعث لاکھوں روپے کا راشن لیکر جانے والی کشتی اور ماہی گیر مسلسل نقصان کے باعث پریشان ہیں۔

اس انسان و ماحول دشمن عمل کیخلاف ابراہیم حیدری کے ساحلی کنارے کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں پر شہر کے مختلف ٹاؤنز سے بڑے پیمانے پر کچرہ پھینکنے کیلئے آنے والی گاڑیوں کی کارروائی دیکھی۔ بعدازاں اب تک پھینکے گئے کچرے کے ڈھیر اور ان سے پھیلتی آلودگی کو دیکھ کر حیرت ہوئی اور وہاں موجود ماہی گیروں سے ملاقات کی۔ جیٹیوں و ابراہیم حیدری کے مختلف محلوں میں موجود رهائشى 'ماهی گير محمد يوسف' نے بتایا کہ ان کے معصوم بچے آلودگی کے باعث مختلف امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں، جبکہ سمندر جانے والے ماہی گیر جلدی و پیٹ کے مختلف امراض میں مبتلا ہوکر گھروں میں پڑے ہوئے هيں- اور انہوں نے بتایا کہ اس آلودگی کے باعث ان کا روزگار تباہ ہو رہا ہے، ان کی جانوں کو خطرہ ہے، لیکن افسوس ہے کہ حکومتِ وقت، ماحولیاتی ادارے، مختلف نمائندے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ابراہیم حیدری میں بڑے پیمانے پر پھینکے گئے کچرے کا جائزہ لیتے ہوئے ابراہیم حیدری فش فیکٹریز ایریا میں پہنچا، جہاں فیکٹریوں کے مالکان نے ابراہیم حیدری تا ریڑھی کا مین روڈ توڑ کر گٹر نالے بنا رکھے ہیں، جہاں سے فیکٹریوں سے خارج ہونے والا زہریلہ مادہ سمندر میں چھوڑا جارہا ہے، اس سے ایک طرف روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہےتو دوسری جانب وہاں سے گذرتی گاڑیاں اور پیدل لوگ گندے اور زہر آلودہ پانی کی وجہ سے شدید پریشان ہیں۔ اس سلسلے میں جب فیکٹری انتظامیہ کے کارندے سے معلوم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم یہاں کے بااثر افراد کو روڈ توڑنے اور پانی کی نکاس کیلئے باقاعدہ رقم ادا کرتے ہیں۔

Contributor:

Adil Ansari is a participant from Ibrahim Hyderi. He is interested in photography and video making. He is also an active participant at a youth organization in his area.

#top

3 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle