• Zainab Hussain

کراچی کی ہزارہ آبادی میں معدوم ہوتی فارسی زبان


فارسی دنیا کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے۔ فارسی ایران کی سرکاری اوردفتری زبان ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان، افغانستان، ہندوستان اور دیگر ممالک میں بھی بولی جاتی ہے۔ فارسی کے کل ۳۶ حروفِ تہجی ہیں۔ فارسی کا تعلق زبانوں کے اس خاندان سے ہےجو ہند آریائی یا ہند یورپی کہلاتا ہے۔ فارسی کا قدیم نام پارسی تھا جو کہ بعد میں فارسی پڑ گیا۔ جس طرح آج کل انگریزی زبان کی قدرواہمیت ہے ایسے ہی برِ صغیر پاک و ہند میں فارسی زبان کی اہمیت تھی۔ مغلیہ سلطنت نے فارسی زبان کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ اُس دور میں شاہی زبان فارسی تھی، مغلیہ سلطنت میں شاعری بھی فارسی زبان میں ہوا کرتی تھی۔ مغلیہ سلطنت کے ختم ہوتے ہی فارسی زبان معدوم ہونا شروع ہوگئی۔ حکومتی سر پرستی نہ ہونے کے باعث رفتہ رفتہ اردو عوامی زبان بن گئی اور اردو نے فارسی کی جگہ لے لی۔ اس وقت شعراﺀ بھی اردو اور فارسی کی آمیز شاعری کیا کرتے تھے۔ اسی دوران انگریزوں کی آمد نے بھی فارسی کو بہت نقصان پہنچایا اور اپنی حکومت کو قائم کرنے کے لئے سازش کرکے فارسی زبان کو ختم کردیا۔ سنہ ۱۸۳۴ میں برِ صغیر میں اردو کو سرکاری اور دفتری زبان بنا دیا گیا۔ فارسی شعراﺀ میں ولی دکنی، شیخ سعدی شیرازی، فردوسی، جلال الدین رومی، مرزا اسد اللہ خان غالب، علامہ محمد اقبال اور رودکی وغیرہ شامل ہیں جن کی شاعری کو آج بھی مقبولیت حاصل ہے۔

موجودہ دور میں پاکستان میں بھی فارسی کی قدرو اہمیت ہے اور اس کی بڑی اور اہم وجہ قدیم اور مفید کتابوں کا فارسی زبان میں ہونا ہے جو حکایات سےبھری پڑی ہیں۔ پاکستان میں ہزارہ برادری جو کوئٹہ، مچھ، کراچی، حیدرآباد، سانگھڑ، اسلام آباد، لاہور، پشاور اور دیگر شہروں میں آباد ہیں، ان کی زبان فارسی ہے۔ کراچی میں موجود ہزارہ برادری جو مختلف علاقوں میں برسوں سے آباد ہیں، اُن کی موجودہ نسل میں فارسی زبان معدوم ہو رہی ہے۔ جس کی بڑی وجہ کراچی میں بولی جانے والی اردو زبان ہے۔ ہزارہ برادری دیگر آبادیوں کے ساتھ مل جل کر رہتی ہے۔ فارسی اور اردو زبان آپس میں مل کر ایک الگ شکل اختیار کر گئی ہے جو نہ فارسی ہے اور نہ اردو۔ اس کے علاوہ دیگر وجوہات میں ذرائع ابلاغ بھی ہیں۔ تمام چینلز اردو میں نشر ہوتے ہیں اور لوگ ان ہی چینل سے متاثر ہو کر ان ہی کی بولی بولتے ہیں۔ ایک اور وجہ ہمارا تعلیمی نظام اور نصاب بھی ہے جو انگریزی اور اردو زبان میں ہے۔ فارسی زبان و ادب ہمارے نصاب میں شامل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں جب ہم نےہزارہ برادری کے بزرگ شخصیت سے وجہ جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں فارسی زبان نہیں پڑھائی جاتی، اسی وجہ سے ہماری نسل میں فارسی زبان معدوم ہوتی جارہی ہے۔ جب ہم نے ہزارہ نوجوانوں سے ان کی رائے معلوم کی تونام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ آج کل نوکری کے لئے انگریزی زبان کا مطالعہ کرتے ہیں، فارسی کا نہیں اور اُن کے نزدیک کراچی میں فارسی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔جب ہم نے جامعہ کراچی کے شعبہ اردو سے تعلق رکھنے والے ماہرِ زبان پروفیسر ڈاکٹر روؤف پاریکھ جو کہ فارسی کے بھی استاد ہیں یہ وجوہات معلوم کیں تو انکا کہنا تھا کہ ’’کراچی میں فارسی زبان معدوم نہیں ہو رہی کیوںکہ جامعہ کراچی سمیت دیگر اداروں میں بھی فارسی زبان پڑھائی جاتی ہے‘‘۔

اس حوالے سے ہم نےڈاکٹر پاریکھ سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ کالجز کی سطح پر فارسی زبان کی ترویج ختم ہو رہی ہے۔ طالبِ علم پڑھنا چاہتے ہیں لیکن صحیح آگاہی نہیں ملتی تو وہ یونیورسٹی کی سطح پر آکر فارسی زبان سیکھتے ہیں۔ پہلے کراچی کے تقریبا بیس کالجز میں فارسی پڑھائی جاتی تھی جو کہ اب کم ہوکر صرف چار سے پانچ کالجز تک محدود ہو گئی ہے۔

ہزارہ اکابرین کو اپنی زبان بچانے کے لئے اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔ ہر طرح کی کوششیں کرنی چاہیئےجس سے فارسی زبان معدوم ہونے سے بچ سکے۔ اگر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ماضی میں جس طرح بر صغیر میں فارسی زبان ختم ہوگئی وہیں پاکستان میں اس تاریخ کا خود کو دہرانا مشکل نہیں۔ نئی نسل کو بھی اپنی زبان کی قدرو اہمیت کا اندازہ ہونا چاہئے۔ زبان میں تبدیلی خوش آئند بات ہے لیکن معدوم ہونا کسی خطرہ سے خالی نہیں۔

Contributor:

Zainab Hussain is a participant from Manghopir. She is doing her Masters in Urdu Literature and loves to write.


7 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle