• Urooj Fatima

منگھوپیر؛ بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال


منگھو پیر کی تاریخ آٹھ سو سال پرانی ہے۔ ویران پہاڑ کے ساتھ گڈاپ ٹاؤن میں واقع یہ بستی حضرت حافظ حاجی حسن المعروف سخی سلطان منگھوپیر کے نام کی نسبت سے مشہور ہوئی۔

منگھو پیر کا علاقہ بہت سے لسانی گروپوں پر مشتمل ہے جس میں مہاجر، سندھی، پنجابی، بلوچی، کشمیری، پشتون، بوہری اور اسماعیلی وغیرہ شامل ہیں۔

تصویر کشی: تنزیلہ، فاطمہ، بشرٰی، ندا، ماریہ

منگھو پیر میں موجود چرچ کی بنیاد پاسٹر جیمز نے رکھی۔1960 میں یہ چرچ بنایا گیا ، یہ ایک بیپٹسٹ چرچ ہے۔ چرچ چھوٹا ہونے کی وجہ سے عبادت کے لئے آ نے والے لوگوں کو مشکلات درپیش ہوتی ہیں،جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ سلطان آباد چلے گئے۔ لیکن یہ چرچ اب بھی موجود ہے یہاں واش روم کا مسئلہ،لائٹ کا مسئلہ،اور چرچ کے سامنے میدان کی وجہ سے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میدان میں کرکٹ کے شور سے چرچ میں ہونے والی عبادت میں خلل پڑتا ہے۔اس چرچ میں اتوار کے روز ڈیڑھ سے دو گھنٹے عبادت ہوتی ہے۔

تصویر کشی: تنزیلہ، فاطمہ، بشرٰی، ندا، ماریہ

منگھو پیر میں واقع مسجد امام بارگاہ امامیہ مغل ہزارہ یعقوب شاہ بستی کی عمارت کا سنگ بنیادمحترم عبدالوحید کپڑصاحب نے 28 ذی الحجہ سن 1392 مطابق 3 فروری 1973کو اپنے دست مبارک سے نصب فرمایا۔اس امام بارگاہ کے پیش امام یہیں رہائش پذیر ہیں۔ پہلے یہ امام بارگاہ چار دیواری تھی آ ہستہ آہستہ امام بارگاہ بہتر طریقے سے بنتی گئی۔

تصویر کشی: تنزیلہ، فاطمہ، بشرٰی، ندا، ماری

مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ عبادت کا مرکز بنایا گیا۔امام بارگاہ میں ہر مہینے سوائے ذی القعد کے کوئی نہ کوئی تقریب رکھی جاتی ہے جیسےاماموں کی ولادت کا دن،محرم،چالیسواں وغیرہ۔امام بارگاہ امامیہ میں سید میر آ غا ہر زبان میں دم کرتے ہیں، جس سے آنے والے مریضوں کو شفا نصیب ہوتی ہے۔

تصویر کشی: تنزیلہ، فاطمہ، بشرٰی، ندا، ماریہ

منگھوپیر میں قریب صدی پُرانا قائم ہندو برادری کی عبادت گاہ مہاگیشور مہادیو مندر۔

تصویر کشی: تنزیلہ، فاطمہ، بشرٰی، ندا، ماریہ

منگھو پیر میں موجود گرم چشمے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو گرم چشمے کے مریدوں کا کہنا ہے کہ تیرہویں صدی میں لال شہباز قلندر اس مقام پر چلہ کاٹتے تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ لال شہباز قلندر نے وہاں آ ستانہ بنا لیا اس طرح ان کے مریدوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ ان کے مریدوں کااس چشمہ کے حوالے سے کہنا ہے کہ لال شہباز قلندر نے اپنی تلوار زور سے زمین پر ماری جس سے زمین میں دراڑ پڑ گئ۔اور اس جگہ دودھ کاچشمہ بہنا شروع ہوگیا۔لوگ اس دودھ سے شفا یاب ہونے لگےلیکن یہاں موجود لوگوں نے دودھ بیچنا شروع کر دیا۔ جس کی وجہ سے وہ دودھ کا چشمہ گرم پانی کے چشمے میں تبدیل ہوگیا۔اور یہ چشمہ اب تک موجود ہے۔اس لئے اس چشمے کا نام"گرم چشمہ"ہے۔لوگ دور دور سے شفا یاب ہونے کے لئے گرم چشمہ آ تے ہیں۔

Contributor:

Urooj Fatima, Tanzeela, Fatima Malik, Bushra Malik, Nida Malik, Maria and Ayesha are participants from Saeedabad.

#high

12 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle