• Ubaid Imam

کراچی: تاریخ کی نظر سے


تاریخ بتاتی ہے کہ 1947 میں پاکستان کی آزادی کے وقت کراچی کو ملک کا دارالحکومت منتخب کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسلامآباد کو دارالحکومت کا درجہ دیا گیا ہے۔ کراچی کی تاریخ عربیوں کی دور سے شروع ہوئی ہے۔۔عربی لوگوں کا اس علاقے کو بںدرگاہ دیبل کے نام سے جانتے تھے۔ محمد بن قاسم نے 1712ء میں اپنے فتوحات کی آغاز کیا۔ برٹش تاریخ دان ایلیٹ کے مطابق کراچی کے چند علاقے اور جزیرہ منوڑہ، دیبل میں شامل تھے ۔ 1947ء میں کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت حکومت بنایا گیا. اُس وقت شہر کی آبادی انداذہ کے مطابق ‌‌4 لاکھ تھی۔ اپنی اس ہی حیثیت کی وجہ سے شہر کی آبادی میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا اور شہر اپنے سارے کتائی کا مرکز بن گیا۔ 1947 سے 1953 تک کراچی پاکستان کا دارالحکومت حکومت رہا ، کراچی کی بہت تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور معشیت کی وجہ سے دارالحکومت حکومت کو کسی دوسرے شہر میں منتخب کرنے کا سوچا گیا. 1958ء میں اس وقت کے سردار ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب ایک جگہ اسلام آباد پر تاریخیں کاموں کا آغاز کردیا. آخر کار 1968 میں دارالحکومت کو اسلامآباد منتقل کردیا گیا،کراچی جسے آج کے دور میں روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے اگر اس کی تاریخ کو دیکھا جائے تو پہلے یہ ایک دیہی علاقہ تھا اس بارے میں غلام رسول کلمتی نے اپنے کتاب میں کچھ اس طرح ذکر کیا ہے۔

آج سے چند سال پہلے کراچی میں ایک خوبصورت سماجی و ادبی سو سائیٹی تشکیل پاچکی تھی جو لیاری جیسی گنجان آبادیوں سے لیکر قرب و جوار کے دیہاتوں و سرسبز و شاداب کھیتوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ملیر بھی اسی خوبصورت سوسائٹی کا ایک اهم جز تھا۔ جس سماجی، ادبی اور علمی نشستیں ، سیمینار اور دیوان ( مشاعرے ) باقاعدگی سے منعقد ہوا کرتے تهے اور لوگ بڑے شوق سے ان ادبی و علمی مجالس اور سیمیناروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔ان علمی وادبی سرگرمیوں کے اخراجات اپنی مدد آپ کے تحت پورے کیے جاتے تهے. ان میں کسی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے کے کا حصہ صفر ہوا کرتا تھا۔ البتہ لوگ منعقده پروگرام کی مناسبت سے اپنے تئیں کسی نہ کسی ادارے کے سربراه کو ضرور مدعو کرتے تھے۔ اگر تعلیمی سیمینار ہوتو محکمہ تعلیم سے وابستہ افسران کو مدعو کیا جاتا تھا اور وه آکر بادل ناخواستہ کچھ تعریفی کلمات ادا کرتے۔

بیشتر لوگ کراچی کی تاریخ کو بیس پچیس گروہوں پر مشتمل اس بستی سے شروع کرتے ہیں جس کا ذکر ناؤں مل نے اپنی یاد داشتوں پر مبنی ان مچھیروں کی چھوٹی سی بستی سے کیا ہےلیکن اگر ہمیں کراچی کی جغراگیائی تاریخ بیان کرنا مقصود ہو جو ساحل سمندر سے شروع ہوکر ملیر اور گڈاپ تک پھیلی ہوئی ہے تو ہمیں اس چھوٹی سے بستی سے نکلنا ہوگا۔_ کراچی میں روز اول سے دو قسم کی آبادیاں تھیں، ایک وه آبادی جس میں بسنے والے لوگ گلہ بانی کے پیشے سے وابستہ تھے، آبادی کا دوسرا حصہ ساحلی علاقوں پر مشتمل تھا۔ ساحل پر وه لوگ رہتے تھے جن کا گز بسر زری زند ( سمندری حیات ) سےتھا۔ کراچی کی بہت سارے واقعات و حالات پر تو تفصیلی کتب موجود ہیں. لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جو صدیوں سے اس سرزمین کا حصہ ہیں لیکن مصّنفین کی نظروں سے پوشیدہ رہیں، اس تحریر میں تحقیق کے زریعےجہاں تک ممکن ہوسکا ان پوشیدہ پہلووں کو جگہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

کراچی ناموں کا گرداب میں

جہاں تک کراچی کے مختلف ناموں کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ مختلف ادوار میں اس سرزمین کے مختلف حصوں کے الگ الگ نام رہے ہوں گے جو وقت اور حالات کے مطابق تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ یہ عمل صدیوں سے جاری تھا اور جہاں تک کراچی بندرگاه کے قدیم نام کا تعلق ہے، اس پر ابھی تک کوئی بھی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا ہے البتہ جو نام کسی نہ کسی طرح سامنے آئے ہیں مصنفین نے ان پر اپنے تاثرات بھی تحریر کئے ہیں اور وه نام بھی اپنی اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں۔ بیشتر مصنفین نے کراچی کے جو نام تحریر کئے ہیں وه کچھ اس طرح ہیں : کروکالا، ککرالہ، ککرالو، کروکل، کروکالی، مورون ٹوبارا، ڈربو، خورعلی، قلاچی، دیبل، خواردبیل، قلاچی جو گوٹه، کلاچی جوکن، کلاچی جوکنڈ، کرازی، خراشی، کهوراچی، کراچر، کراچو، کرانچی وغیره وغیره. لیکن حقیقت میں بیشتر کراچی کے مختلف ادوار کے نام نہیں ہیں بلکہ دیگر زبانوں میں ایک ہی نام کے مختلف تلفظ ہیں جو مختلف شکلوں میں سننے میں آئے ہیں جیسا کہ عربی زبان میں " چ " نہ ہونے کی وجہ سے وه کراچی کو کراتشی کہتے ہیں اور اسی طرح کئی ایسی زبانیں ہیں جن میں " ج " کو " ز " میں تبدیل کرتے ہیں یا کہ " س " کو "ش " بدل دیتے ہیں کہیں " ب " کو " گ " میں تبدیل کیا جاتا ہے لیکن یہ الگ سے نام ہر گز نہیں ہیں البتہ سکندری جنت، کروکالا، مورن ٹوبارا، ریبل، ڈربو وغیره ممکن ہے کہ نام ہوں لیکن گمان غالب یہی ہے کہ ان میں سے بہت سارے نام کراچی سے منسلک دیگر علاقوں کے ہوں گے جیسا کیماڑی، منوڑه، واگوڈر، کلفٹن، ریڑهی وغیره. ککرالو، کروکالا، منٹوبارا کے بابت کوئی مستند رائے قائم نہیں کی جا سکتی کہ آیا یہ کراچی کے مختلف نام تھے یا نہیں ،لیکن چونکہ یہ نام مسلسل زیر بحث رہے ہیں لہذٰاممکن ہے کہ مستقبل قریب میں محقق کسی ایک پر متفق ہوں. لیکن تا حال اتفاق دیکھنے میں نہیں آتا۔

کراچی قبائلی دور میں

کراچی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہےجتنی کہ انسان کی اس سرزمین پر آمد کی تاریخ ہے۔ لیکن تحریری ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے وه تاریخ آنکھوں سے اوجھل ہے. البتہ جن ادوار کی نشانیاں دستیاب ہوئی ہیں انہیں مصنفین نے تاریخ کے صفحات میں جگہ دی ہے۔ بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جن کا کہیں ذکر نہیں ملتا اس لیے عام لوگ تا حال ان سے نابلد ہیں۔ ان میں سے ایک کراچی کی سرزمین پر بسنے والے قبائل ہیں جو صدیوں سے یہاں بستے چلے آئے ہیں وه قبائل خواه سندھی ہوں یا بلوچ ، انکی اپنی ایک تاریخ ہے اور اس سرزمین سے ان کی وابستگی کے اپنے انداز ہیں۔

اس سرزمین ( کراچی ) کی معلومات میں یہاں کئی قبائل کا ذکر ملتا ہے جن میں کلمتی، بلفتی ( بلفت ) / نومڑیا، لاشاری، گبول، چانڈیا، جوکهیا اور دیگر قبائل شامل ہیں۔ ان قبائل کے آپس میں طویل جنگیں اور اختلافات بھی ہوتے رہے اور ان کے درمیان امن و آشتی بھی قائم تھی۔اور اسی طرح غیر بلوچ قبائل بھی طاقتور رہے ہیں۔

جن ادوار میں کراچی ایک چھوٹی سی بندرگاه ہوا کرتا تھا اور اس کی وسعت انتہائی محدود تھی. ایک طرف ساحلی بستیاں اور چھوٹی چھوٹی بندرگاه ہوا کرتے تھے جو اپنی الگ حیثیت رکھتی تھیں جبکہ باقی علاقہ وسیع و عریض میدانوں، پہاڑوں، پتھریلے چٹانوں پر مشتمل تھا جن میں وسیع چراگا ہیں ہوا کرتی تھیں۔ گلہ بانی یہاں کا خاص پیشہ تھا اور ان علاقوں میں رہنے والے لوگ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کے بڑی بڑی گلوں کے مالک ہوا کرتے تھے۔

Contributor:

Ubaid Imam is a participant from Rafah-e-Aam. He is interested in history and culture. He is also interested in photography and making videos.


29 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle