• Citizen Journalism Program

Moosa Sanani; Unsung artist of Lyari

ویسے تو کراچی میں اور بلخصوص لیاری میں اٗن گنت گمنام فنکار موجود ہیں، لیکن جس آرٹسٹ کی کہانی ہم آپکو سنانے والے ہیں وہ اپنے آپ میں بلکل مختلف ہیں ۔

ان کا انٹرویو کرنے کے بعد ہمیں اس بات پر مکمل یقین اور احساس ہوگیا کہ اس دنیا میں رہنے والا ہر شخص اپنی ایک اہمیت اور انفرادیت رکھتا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی احساس ہوا کہ اگر اس معاشرے کے تمام افراد ایک دوسرے پر یقین یعنی انسانیت پر یقین رکھنا شروع کردیں تو یہ معاشرہ ایک مثال بن سکتا ہے۔ آئیے سنتے ہیں لیاری کے ایک گمنام آرٹسٹ ،موسیٰ سانانی کی کہانی انہی کی زبانی:

"تمام پڑھنے والوں کو سلام، میرا نام موسٰی سانانی ہے اورمیں لیاری کارہائشی ہوں اور پیشہ سے ایک آرٹسٹ ہوں، میرے اندر آرٹ کا شوق اُس وقت اُبھرا جب میری عمر فقط 7 برس تھی۔ میں نے یہ آرٹ کسی ادارے یا استاد سے نہیں سیکھا، میرا تمام کام میرے اپنے دماغ کی تخلیق ہے۔ میں نے جب اسکیچنگ شروع کی تو اس میں کافی مشکلات آئیں، اُسکی وجہ ذیادہ تعلیم کا نہ ہونا اور کسی اُستاد سے باقاعدہ اِس آرٹ کی تربیت نہ لینا شامل تھا، لیکن میں نے اپنے کام کو جاری رکھا اور لوگوں نے اُسکو بہت سراہا. میں نے شروعات میں بہت کوشش کی کہ میرے پاس ایسا مواد اور ایسا آرٹ ہو جو دیگر آرٹسٹ سے بلکل مختلف ہو لیکن بات ساری وقت کی ہوتی ہے، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، مجھے اِس آرٹ کو مزید سیکھنے میں مدد ملتی گئی اورالحمدللہ صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ میراآرٹ اب فروخت بھی ہونے لگا ہے اور اب مجھے مختلف اداروں کی طرف سے پروجیکٹس بھی ملنا شروع ہوگئے ہیں۔


"شوق تو بچپن سے ہی تھا لیکن قومی اوربین الاقوامی آرٹسٹ کو پڑھتے پڑھتے اُنکا کام دیکھتے ہوئے اور کومِک کی کتابیں پڑھتے پڑھتے یہ شوق میرے پیشے میں تبدیل ہوگیا۔

"جیسا کہ میں نے آپکو بتایا کہ شوق تو مجھے بچپن سے تھا لیکن جو میرا پہلا اسکیچ تھا وہ ایک بین الاقوامی باکسر کا تھا جب میری عمر ۷ برس تھی اور اُس وقت وہ باکسر کافی مشہور تھے۔


"اس کے بعد والد صاحب کی ترویج اور اُن سے مشورہ کے بعد میں نے لینڈاسکیپ کے اُوپر کام کرنا شروع کیا جس میں مجھے مزید پذیرائی ملی. لوگ عمومی طور پر اپنی سوشل میڈیا مارکیٹنگ کرتے ہیں جس پر میں اس لیئے یقین نہیں رکھتا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ میرے کام کو خود آکر دیکھیں اور میرے کام کو پسند کریں جو کہ ہوا بھی اورلوگوں نے میرے کام کو بےحدپسند بھی کیا۔


"اب حال کچھ یوں ہے کہ لوگ مجھ سے منفرد کام کی آفر کرتے ہیں اور اب اس وقت میں لوگوں کے لئے وال پینٹنگ اور ڈیزائینگ پر کام کر رہا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ میں نے اب تھری ڈی پینٹنگ پر بھی کام شروع کردیا ہے جسے بےحد پسند کیا جارہا ہے۔


"اس کے علاوہ میں ایک اسکول میں بھی آرٹ کی ٹیچنگ کرتا رہا ہوں اور ایک جگہ میں نے اس آرٹ کو دوسروں تک پہنچانے کی پوری کوشش کی جو ایک سال تک تو چلتی رہی لیکن معاشی حالات کی بنا پر وہ آگے نہیں چل سکی۔

"میری یہ تمٓنا ہے کہ جو آرٹ اور فن میرے پاس ہے وہ باقی لوگوں تک بھی پہنچاؤں ۔ میں اپنے ایسے تمام دوستوں کو بس یہ ہی پیغام دینا چاہوں گا کہ آرٹ آپکے دل کی زبان ہے، اس پیشے میں پیسے کو نہیں بلکہ اپنی لگن دیکھ کر آئیے گا۔‘‘




Contributor: Abdul Haseeb, Sadaf Suleman & Aaliya Wahid

8 views

A Project by SIE in collaboration with KYI.

  • Facebook - White Circle
  • Twitter - White Circle
  • Instagram - White Circle